کرپشن کی نئی تاریخ رقم۔

by easy search on 19-09-2015 in

 
لاہور: نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میں سنسنی خیز اور ہولناک حقیقت کا انکشاف ہوا ہے کہ صرف ایک ہزار روپے میں 105برانچوں پر مشتمل کے اے ایس بی کاپورا بینک بمعہ 25ارب روپے بطورتحفہ دے دیا گیا۔سینئر تجزیہ کار کامران خان نے بتایا کہ چار ماہ پہلے 7مئی کو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کے اے ایس بی بینک کو بینک اسلامی میں ضم کردیا اور 105 برانچوں پر مشتمل اس بینک کی قیمت صرف ایک ہزار روپے لگائی گئی۔سٹیٹ بینک نے KASBبینک کے مالی معاملات چلانے کے لئے بینک اسلامی کو ابتدائی طور پر دس سال کے لئے 5ارب روپے قرض دیاجس کی شرح سود اعشاریہ ایک فیصد تھی اور اس کے بعد ان کو مزید 20ارب روپے دئیے گئے۔اس طرح اس بینک کی ایک ہزار قیمت مقرر کرنے سے بینک کے 9ہزار شیئرہولڈرز کے ایک ارب 95کروڑ روپے کے شیئرز کی قیمت صفر ہو گئی۔اس ڈیل کا براہ راست فائدہ بینک اسلامی کی شیئر پرائس کو بھی ہوااور اس کی قیمت جو ساڑھے آٹھ روپے تھی اس میں پچاس فیصد تک اضافہ ہوااور وہ ساڑھے 12روپے فی شیئر تک پہنچ گئی۔KASBبینک کے انضمام کے وقت اس کے اثاثوں کی مالیت کچھ یوں تھی۔مارکیٹ ویلیو کی بنیاد پر نان پرفارمنگ لونز کے مقابل سکیورٹیز کی مالیت 10ارب تھی۔ڈیفرڈ ٹیکس محتاط اندازے کے مطابق5 ارب روپے کا تھاجبکہ بینک کی سکیورٹیز کے 78فیصد شیئرز کی قیمت دو ارب روپے بنتی تھی۔شکر گنج فوڈز میں 42فیصد شیئرز کی ملکیت جن کی قیمت کم از کم ساڑھے 6ارب روپے بنتی تھی جبکہ رئیل اسٹیٹ اور دبئی کے ریپٹن سکول میں سرمایہ کاری 3ارب روپے کی تھی مگر اس کے باوجود اس بینک کی صحت کو انتہائی ناقص قرار دیا گیا اور اس کے لئے آڈیٹر کا انتخاب کیا گیا اور اس کی رپورٹ پر فیصلہ کیا گیا۔اس پورے معاملے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سٹیٹ بینک نے KASBبینک پر 14نومبر 2014ءکو مالی پابندی لگا دی اور ریگولیٹری سرمایہ کی کمی کو وجہ بتایاحالانکہ چار اور دیگر بینک جن میں بینک اسلامی ،سمٹ بینک، دبئی اسلامک بینک اور سلک بینک شامل ہیں ان شرائط پر پورا نہیں اترتے تھے ،31دسمبر 2014 کو بینک اسلامی کی کل ایکوٹی 6ارب روپے تھی، سلک بینک کی 5.01ارب روپے ،دبئی اسلامک بینک کی 7.439ارب روپے تھی جبکہ سٹیٹ بینک کے قواعد کے مطابق یہ نمبر کم از کم 10ارب روپے ہونا چاہئے تھا۔یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ صرف KASBبینک ہی کو کیوں نشانہ بنایا گیااور اس کے شیئرز ہولڈرز کا کیا قصور تھا جو راتوں رات اپنی جمع پونجی سے محروم ہوگئے۔اس معاملے میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس میں سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا کیا کردار تھااور وہ کیوں خاموش رہا۔سٹیٹ بینک کا موقف ہے کہ اس کارروائی کا مقصد بینک کے ڈیپازٹرز کا تحفظ تھا۔ممتاز ماہر معاشیات سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سٹیٹ بینک کو ثابت کرنا ہوگا کہ اس سے بہتر کوئی اور آپشن نہیں۔بنکاری ہو ،توانائی یا کوئی اور شعبہ حکومت کا اعتبار اور ساکھ نہیں رہی اور مفادات کا ٹکراو¿ ہر چیز میں نظر آتا ہے۔میزبان نے بتایا کہ سکیورٹی ایکسچینج کمیشن اس معاملہ کی بھی تحقیقات کر رہا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی حکومتی شخصیات تو نہیں ہے۔اس حوالے سے حکومت سے منسلک ایک اہم شخصیت کا نام بھی آرہا ہے۔ان میں سے ایک شخصیت ڈاکٹر مفتاح اسماعیل بھی ہیں جو وزیر اعظم کے معاون ، وزیر مملکت اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہیں۔اس کے علاوہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل سوئی ناردرن کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین بھی ہیں۔ کامران خان نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سرکاری افراد اور کاروبار میں فصیل ہو۔علاوہ ازیں پروگرام کے میزبان نے انکشاف کیا کہ سانحہ صفورا میں مرکزی دہشت گردطاہر عرف سائیں نے جس پستول سے 30بے گناہ لوگوں کی جانیں لیں وہ لائسنسی تھااور محکمہ داخلہ سندھ نے اس کے نام پر جاری کیا تھا۔یہ اسلحہ اس نے کس دکان سے لیا۔اس کے کون لوگ مددگار تھے۔تحقیقات کے دوران یہ تمام باتیں پر اسرار طور پر چھپا لی گئی تھیں۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے گرفتار کیمیکل کے تاجر شیبا احمد نے ایک پاکستانی نڑاد امریکی شہری حسین قمر عرف شبلی کو معاونت کے لئے پاکستان بلایا تھا۔شبلی فشر مین کوآپریٹو ہاو¿سنگ سوسائٹی کے وائس چیئرمین سلطان قمر صدیقی کا بھائی ہے ،اس طرح کرپشن اور بزنس کا دہشت گردی سے تعلق بھی سامنے آگیا تھا۔ جس دکان سے اسلحہ خریدا گیا اس کو معاونت کے الزام میں گرفتار کئے جانے کا امکان ہے۔اطلاعات کے مطابق طاہر عرف سائیں کے نعیم ساجد سے تعلقات تھے اور وہ اکثر اس کے گھر میں بھی رہتا تھا
Leave a Comment